کالم

غلام ابن غلام

قارئین محترم!پاک امریکہ تعلقات کی کہانی تقریبا دس دہائیوں پر مشتمل ہے۔ایک ایسی کہانی جو بے پناہ دشوار راہوں سے گزری ہے۔نشیب و فراز بھی آئے او تجسس بھی کچھ کم نہیں رہا۔ایک ایسی ریلیشن شپ کے لئے جس کے لئے ہم نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی اور اسے روز مرہ کی بنیاد پر چلایا گیا۔جو ہیشہ سے غیر متوازن تھی ،جس میں امریکہ ہمیشہ بالا دست رہا اور ہم ثانوی حیثیت پر قانع رہے۔اسی دور میں با ر گینگ کے کئی مواقع بھی آئے لیکن ہم نے دوستی کے ناطے سیر چشمی کا مظاہرہ کیا اور لگی بندھی تنخواہ پر گزارہ کرتے رہے۔خدمت گزاری اور وظیفہ خوری کی یہ علت رفتہ رفتہ ہمار ے رگ و پا میں سرایت کر گئی۔اور غلام ابن غلام نسلوں کی وجہ بنی۔پاکستان وہ ملک ہے جسے قدرت نے انمول جغرافیائی اہمیت دے رکھی ہے۔اور دنیا بھر کو قریب لانے اور فاصلے سمیٹنے کے لئے CPECکی شکل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔وہ ریاست جو خطے میں توازن اقتدار کی علامت ہے اور دشمن کی لاکھ سازشوں کے باوجود افغانستان میں امن کے لئے کوشاں ہے،اور اس حقیقت سے امریکہ بھی اچھی طرح آگاہ ہے،یہی وجہ ہے کہ امریکی دفاعی فورسز کے اجلاسپاکستان کا تذکرہ کئے بغیر مکمل نہیں ہو پاتے۔کچھ عرصہ پہلے آرمڈ سروسز کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا تو پاکستان کا نام 73 دفعہ آیا تھا۔پاکستان کو سفارتی طور پر انگیج کرنے کی بات ہوئی۔اور شرکاء کو متنبہ کیا گیا کہ اسلام آباد کو دبائو میں لانے سے نفع سے زیادہ نقصان ہو گا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اسلام آبادکا ذکر مثبت انداز میں ہوا۔کچھ عرصہ قبل پاکستان کی خطے میں مثبت ایکٹیویٹیز اور دہشت گردی کے قلع قمع اور امن کی بحالی کے لئے پاکستان کا خصوصی ذکر کیا گیا۔اور یہ بات بتائی گئی کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی سازش پر امریکہ کو تشویش ہے۔کیونکہ اس سے جنوبی ایشیاء میں جوہری جنگ کے خطرات بڑھ جائیں گے۔صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان پر مسلسل دبائو بڑھ رہا ہے۔اور اس طریقے سے با لواسطہ پاکستان پر بھی دبائو بڑھا ہے۔الزام لگا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔دہشت گرد تنظیمیں پنپ رہی ہیں اور اسلام آباد حقانی گروپ سے مسلسل چشم پوشی کر رہا ہے۔واشنگٹن سے طعنوں کے ساتھ وارننگ آئی کہ پاکستان اربوں ڈالر وصول کرنے کے باوجود طرز عمل نہیں بدل رہا۔اگر یہی کچھ ہوتا رہا تو نا قابل تلافی نقصان اٹھائے گا۔ابتدائی طور پرچار ماہ کے لئے اس لئے گرے لسٹ میں شامل کیا گیا کہ اگر پاکستان نے طرز عمل نہ بدلا تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ دراصل اس قسم کی صدائیں کچھ عرصہ قبل امریکی تھینک ٹینکس سے بھی سنائی دیتی رہیں ہیں۔کئی سال قبل ہڈ سن انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ اگر پاکستان نے امریکی خدشات کا ازالہ نہ کیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ سکتے ہیں۔اسی ادارے سے منسلک سابق(اس وقت کے) پاکستان سفیر حسین حقانی کا تجزیہ تھا کہ اب کی بار پاکستان کو کوئی سالڈ سٹپ اٹھانا پڑے گا۔ورنہ واشنگٹن کی طرف سے سخت اقدامات کو رول آئوٹ نہیں کیا جا سکتا۔موصوف نے فرمایا یہ کوئی نئی بات نہیں پاکستان نے دبائو میںآنے کے بعد ہمیشہ امریکہ کی خوشنودی کے اقدامات کئے ہیں۔مگر پاکستان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو دو قدم پیچھے ہٹا دیتا ہے۔مگر اس بار صورتحال مختلف ہے۔اول یہ کہ ماضی میں تعلقات اتنے کشیدہ نہیں رہے۔اور چین کی جانب سے پاکستان کی طرف جکھائو کو ڈرامائی انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔اور اب کی بار وہ شاید اپنے پرانے اتحادیوں کو راضی نہ کر پائے۔پاک امریکہ تعلقات تعلقات پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کے نزدیک دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو توانائی بخشنے کے عمل میں کوئی کمی واقع نہیں۔شرط یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہمت سے کام لیں اور روایتی غلامی سے نجات کا حوصلہ پیدا کریں۔اس حوالے سے بہتری کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان نے ماضی کے بر عکس امریکی دھمکیوں کا کچھ زیادہ اثر نہیں لیا۔بلکہ ڈو مور کا جواب نو مور سے دیا ہے۔اور چین کے ساتھ اشتراک عمل کے بارے میں بھی واضح موقف اختیار کیا کہ اس میں پاکستان پورا حق رکھتا ہے۔نیز امریکہ کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو روس ،چین،ایران اور ترقی جیسے ملک پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ماضی میں امریکہ کی جانب سے وارننگ کے بعد چین نے واضح کر دیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا کردار بے حد اہم ہے،جو برسوں سے جنگ میں دہشت گردوں کے خلاف بے پناہ قربانیاں دیتا آیا ہے۔عالمی امن اور سلامتی کے لئے بھی پاکستان کی کاوشیں قابل ستایش ہیں۔ایسے میں عالمی برادری کا فرض بنتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کرے۔دنیا کو جوڑنے کے لئے جب بے شمار رسل و رسائل پہلے سے موجود ہیں تو ون بیلٹ ون روڈ کا شوشہ کیوں؟؟؟اور چین سمیت کسی بھی ملک کو اس طرح کا حاکمانہ رویہ اپنانے کا حق نہیں پہنچتا۔فی الحقیقت افغانستان امریکہ کے لئے دوسرا ویت نام بنتا جا رہا ہے۔بے پناہ وسائل خرچ کر کہ طالبان کو قابل سے تو نکال دیا گیا لیکن افغانستان سے نہیں نکالا جا سکا۔وہ اب بھی ملک کے اکثریتی حصوں پر قابض ہیں اور امریکہ کے لئے وبال جان بنے ہوئے ہیں۔اب جب حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو امریکہ کی ایک ہی خواہش ہے کہ کاش کوئی اسے اس جہنم سے نکال دے۔جو یقیننا پاکستان کا کام نہیں کیونکہ پاکستان ابھی بھی اپنی سرزمین میںدہشت گردوں سے نبر آزما ہے۔ایسے میں اسلا آباد نے واشنگٹن کو معاملہ جنگ کے بجائے مزاکرات سے نمٹانے کا مشورہ دیا ہے۔اور یہ بھی کہا ہے کہ ہم واشنگٹن سے قریبی دوستانہ یعلق کے خواہش مند ضرور ہیں مگر برابری کی سطح پر کیوبکہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور کسی دوسری ریاست سے ہدایات نہیں لے سکتا۔امریکہ بھارت کو خطے کا پولیس مین بنانا چاہتا ہے۔جس نے پہلے ہی کشمیریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔کشمیریوں پر پاکستان بھارتی مظالم کی دہائی 70ء سے دیتا آیا ہے۔لیکن عالمی ضمیر بدستور سو رہا ہے۔یہی نہیں امریکہ ایک طرف مسلم ممالک یعنی مشرق وسطٰی کو کمزور کر رہا ہے اور دوسر طرف بھارت، امریکہ اور اسرائیل تکون بن رہی ہے ٧٧برس کے نرم و گرم مراسم کو ختم نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ یکساں سلوک کرے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں مدد کرے۔کیونکہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا امن قائم نہیں رہ سکتا۔
قارئین! اب بھی وقت ہے کہ ہم امریکہ کے پنجہ ء استبداد سے چھٹکارا پائیں ،تاکہ ہماری آنے والی نسلیں غلام نہ رہیں۔ لیکن اگر جیسا ہے کی بنیاد پر ہم آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے نیچے لگے رہے تو راقم کی ناقص رائے کے مطابق ہم غلام ابن غلام ہی رہیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button