کالم

ریاستی غلامی

پاکستان بنے 76 سال گزر جانے کے بعد بھی افسوس اے قائد تیرا وطن غلامی سے نجات حاصل نہ کر سکا۔ یہ ریاست آج آزاد ریاست ہونے کے بعد بھی آزاد نہ ہوسکی۔ آج کی نوجوان نسل کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اسے معاشرے میں پرورش پارہے ہیں جہاں معاشرے آزاد ہو رہے ہیں ریاستیں آزاد ہو رہی ہیں، سردار شاہی وڈیرا شاہی اور قبیلہ شاہی، جاگیر دارانہ نظام ختم ہو رہا ہے۔تو سوچیں آپ آج کی نسل کتنی خوش قسمت ہے کہ وہ ان سب سے آزاد ہو کر آج کے جدید دور, جدید سائنسی معلومات سے آراستہ ہورہے ہیں۔ اے قائد ایسا ہے تیرا دیس کے یہاں اب تک غلامی سے رہائی نہ مل سکی آج بھی ہم غلامی تلے پستے ہیں اور وہ حکمرانی ہم پر غیروں کی نہیں اپنوں ہی کی ہوتی ہے تو دکھ زیادہ ہوتا ہے غیروں کی غلامی پھر بھی سہی جا سکتی ہے کہ غیر ہیں مگر اپنے ہی اپنوں پر حکومت کرنے لگیں اورظلم و جبروت کی انتہا کر دیں تو پھر صبر نہیں ہوتا وہاں قومیں باغی ہوتی ہیں۔ کہ جہاں غلط کرنے والے کو نہیں بلکہ غلط پر آواز اٹھانے والے اٹھا لئے جاتے ہیں حق پر بات کرنے کو خاموش کیا جاتا ہے دبایا جاتا ہے تو سوچیں کون اٹھے کا کون حق ہر بات کرے گا جب اس کے دبائے جانے پر کوء بات کرنے والا نہ ہوگا اس کے حق کے لئے۔آج کی نسل جدید سائنسی دور سے متعارف تو ہو رہی ہے پر وہی ہماری نسل جہالت و جبر میں ڈوبے معاشرے میں پرورش پارہی ہے۔ اگر ہمارے معاشرے کی تعلیم دیکھیں تو وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے کہ جہاں تعلیمی اخراجات کا بجٹ 97بلین ہوگا اور انکم سپورٹ پروگرامز کا بجٹ471 بلین ہوگا تو وہاں تعلیم کی اہمیت نہیں رہتی وہاں کتابیں ردی میں ملتی ہیں۔آج کی نسل تعلیم حاصل تو کر رہی ہے مگر اپنے وجود سے روشناس نہیں۔ تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے مگر اپنے وجود کی آشنائی بھی ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں میں تعلیم کم اور بے حیائی زیادہ نظر آتی ہے اور اس میں کوئی ذمیدار نہیں اس کے ذمیدار ہم خود ہیں ہم خود ماڈرن اور فیشن کے نام پر اپنی حدیں بھول بیٹھے ہیں۔ تعلیم محض ایک ڈگری نہیں تعلیم تو اخلاق ہے تعلیم تو ادب ہے تعلیم تو جینا سیکھاتی ہے تعلیم تو انسان اور جانور کا فرق سمجھاتی ہے تو میں اکثر جب اس چیز پر بات چیت کرتی ہوں تو مجھے سننے کو ملتا ہے بابائے آدم کے زمانے میں جی رہی ہو تو کہیں اسلامی بہن تو کہیں مدنی منی یعنی اگر اس پر کوئی روشناس ہونا یا کروانا چاہے تو وہ دور قدیم میں رہنے والا اور جو ان سب پر عمل پیرا نہ ہو وہ ماڈرن۔ جبکہ تعلیم انسان کو ماڈرن نہیں انسانیت سکھاتی ہے زندگی کی نئی کرن امید جگاتی ہے۔میرا اکثر ایسے گھرانے کے لوگوں سے سامنا ہوا جو اس وجہ سے بچیوں کو تعلیم کے حصول میں پیچھے رکھتے ہیں کہ لڑکیاں تعلیمی اداروں میں گئیں تو آزاد ہو جائیں گی آزاد ہوئیں کو بھاگ جائیں گی میرا ان سے خاصا بحث و مباحثہ چلتا ہے مگر وہ اپنی اس روایات کو بدلنے کو کسی طور بھی تیار نہیں۔ یہ بات سمجھ نہیں آتی کے کم عمر بچیاں کسی بھی خاندانی تقریب میں بھاری زیورات میں ملبوس نا مناسب طور پر تیار ہو کر تو جا سکتی ہیں لیکن اسکول میں علم حاصل کرنے کیوں نہیں آسکتی والدین کو چاہیے کہ سجنے سنورنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم پر بھی توجہ دیں ۔ سجنا سنورنا غلط نہیں مگر تعلیم سے محروم رکھنا اس غرض و سوچ کے ساتھ کہ بھاگ جائیں گی یا غلط رہ پر چل پڑیں گی تو یہ غلط ہے۔بچیوں کی تعلیم پر تو قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی زور دیا تھا کہ مرد و عورت کا تعلیم پر برابر کا حق ہے مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے لئے ان کا تعلیم یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ مگر افسوس اے قائد تیری وطن کی قوم میں آج بھی یہ شعور بیدار نہ ہو سکا۔ ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل آج بھی رسم و رواج میں بندھی ہے آج بھی انہیں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق نہیں۔ پاکستان آج پھر انہیں دھائیوں پر آپہنچا ہے کہ وہی غلامی، وہی ظلم و جبر بس فرق اتنا رہا کہ وہ غلامی غیر مسلموں اور گوروں کی تھی اور یہ غلامی ہمارے وطن ہی کے لوگوں کی دی ہے۔یاد کریں وہ وقت کہ کس طرح ہمارے بڑوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، کس طرح ہمارے دیس کے جوانوں نے اپنا لہو دے کر وطن حاصل کیا۔ اتنی آسانی سے نہیں ملا یہ جس کی قدر بھول بیٹھے ہیں ماں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کھوئے تھے، کہیں سہاگنوں نے سفید لبادے اوڑھے تھے۔ قائد کا مطالبہ محض زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ وہ ایک مسلمانوں کے لیے تحفظ اور امن چاہتے تھے تاکہ مسلمان اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کریں مگر افسوس آج اسی آزاد میں ریاست زمین کے ٹکڑوں قتل و غارت ہے۔ امن و امان کہیں نظر نہیں آتا اور اسلامی اصولوں پر کوئی چلنا نہیں چاہتا۔ یہ ہے اب قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button