کالم

حریت کونسل جموں کشمیر کے زیراہتمام کانفرنس

وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کوٹلی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت اور بھارتی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلے کے خلاف احاطہ کچہری کوٹلی میں دفاع حق خودارادیت اجتماع سے ولولہ انگیز خطاب کیا۔اس اجتماع کی خاص بات یہ تھی کہ کشمیری خواتین کی بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی جسے وزیراعظم نے بے حد سراہا۔دفاع حق خودارادیت اجتماع جموں کشمیر حریت کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہوا جس میں آزادجموں و کشمیر کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت نے شرکت کی۔حریت کانفرنس کے کنوینئر محمود احمد ساغر نے جلسے کی صدارت کی جبکہ وزیراعظم اسکے مہمان خصوصی تھے۔حق خودارادیت اجتماع آل پارٹیز جموں و کشمیر کانفرنس کے ان فیصلوں کی روشنی میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کی تھی تاکہ دنیا پر واضح کیا جا سکے کہ کشمیری بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اور اقوام متحدہ کو بھی یاد دہانی کروائی جا سکے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔اس موقع پرقائدہ حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد،پیپلز پارٹی کے صدر ممبر اسمبلی چوہدری محمد یسین,تحریک انصاف کے صدر سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی،کنونئیر حریت کانفرنس محمود ساغر،سیکرٹری جنرل شیخ عبدالمتین،وزراء حکومت ملک ظفر،جاوید اقبال بڈھانوی،میاں عبدالوحید،چوہدری اخلاق, چوہدری یاسر سلطان،چوہدری عامر یسین،دیوان علی خان چغتائی،چوہدری اظہر صادق, نثار انصر ابدالی،چوہدری محمد رشید،وزیراعظم معائنہ کمیشن کے چیئرمین پیر مظہر سعید،مشیر وزیراعظم کرنل (ر) معروف،مشیر حکومت محترمہ نبیلہ ایوب،سردار امجد لبریشن لیگ کے صدر خواجہ منظور قادر ایڈوکیٹ،جمعیت علماء پاکستان،جماعت اسلامی،تحریک لبیک پاکستان کے نمائندگان موجود تھے۔وزیراعظم۔چوہدری انوارالحق نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ کشمیری بھارت کے خلاف کبھی سرنڈر نہیں کریں گے مودی نے آزادکشمیر میں کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو ہندوستان کے اندر گھس کر ماریں گے۔تحریک آزادی کشمیر کیلیے قومی،سیاسی،مذہبی و عسکری قیادت ایک ہے۔تحریک آزادی کشمیر سے ذرا برابر روگردانی کی تو ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں،ہمارا سارا نظام تحریک آزادی کا مرہون منت ہے۔پاک فوج کے سربراہ نے کاکول میں اپنے پہلے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جس سے کشمیریوں کو حوصلہ ملا۔دفاع حق خودارادیت کیلیے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔جب تک ایک کشمیری بھی زندہ ہے بھارت کے جابرانہ اور ظالمانہ قبضے کو تسلیم نہیں کرے گا۔یہ مٹی بہت زرخیز ہے یہی سے وہ کردار جنم لیں گے جو مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزاد کروائیں گے۔ے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نہیں ہونگے نئی نسل کے لوگو تاریخ سے کبھی روگردانی نہیں کرنی۔آزادجموں و کشمیر کا سارا نظام تحریک آزادی کا مرہون منت ہے،یہ نظام ان شہیدوں اور ان ماؤں بیٹیوں کی صدقے ملا ہے،تحریک آزادی کو اولیت دیں اپنے اسلاف کے نظریے سے روگردانی نہیں کرنی۔جب کوئی دہلیز میں گھس جائے جو اسوقت پوچھنا نہیں چاہیے بلکہ نکال کر باہر کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کوٹلی مدینتہ المساجد کو چنا یہ روحانی اور فکری لوگوں کا شہر ہے جو تحریک یہاں سے اٹھی ہے وہ پھیلے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے الحاق پاکستان کا فیصلہ پاکستان بننے سے پہلے کیا تھا انشائاللہ ہم اپنے اسلاف کے نظریہ الحاق پاکستان پر پوری طرح قائم ہیں اور اسے تکمیل پاکستان میں تبدیل کر کے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کیلیے تمام سہولتیں فراہم کرے گی لیکن ہماری ترجیح اول تحریک آزادی کشمیر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مٹی بہت زرخیز ہے یہی سے وہ کردار جنم لیں گے جو مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزاد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے سربراہ نے کاکول میں اپنی پہلی تقریر میں مسئلہ کشمیر کو پوری قوت سے اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے جعلی فیصلے پر چوبیس گھنٹوں میں ہم نے ردعمل دیا۔عسکری اور قومی قیادت کشمیر پر ایک ہے۔مسلح افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی خاکی وردی کو خون میں نہلا کر ہمیں تحفظ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں حریت قیادت کو یقین دلایا ہے کہ آزادکشمیر کو تحریک آزادی کو بیس کیمپ بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اقتدار مالک کی عطا ہے بطور وزیراعظم تحریک آزادی کی جنگ پوری قوت سے کروں گا جو فکری انقلاب میں نے سوچا وہ اعزاز کوٹلی کو حاصل ہوا ہے۔تحریک آزادی کشمیر میں ہمیں پوری قوم اور مسلح افواج پاکستان کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت حاصل ہے،وزیراعظم پاکستان کو بھی ٹھوس موقف اپنانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ معجزے کی بات ہے کہ آج تمام سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے،فخر ہے جو کہا اس کو پورا کیا،اب سب کو سوچنا پڑے گا کہ جب تک زندگی ہے خود کو تحریک آزادی کیلیے وقف کر دو ہماری طاقت ہمارا اصل ہمارے اسلاف کا نظریہ تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ لڑنا ہے،بھارت کے سامنے کبھی سرنڈر نہیں کریں گے،مودی نے کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اسے ہندوستان کے اندر گھس کر ماریں گے۔تاریخ بہترین منصف ہے،آزادکشمیر کے مسائل کو اپنی قوت کے مطابق ہر فورم پر بیان کر رہا ہوں،ستر سال کے حل طلب مسائل کرنے کیلیے وزیراعظم پاکستان نے وفاقی وزراء کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے انشائاللہ مسائل حل کرونگا۔انہوں نے کہا کہ ایل او سی پر خدمات انجام دینے والی عظیم پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کسی ہندوستانی ایجنڈے کو آزادکشمیر میں پھیلانے کی کوئی کوشش کرے گا تو آہنی ہاتھوں سے کچل دیں گے،ایل او سی پر بسنے والے تمام کشمیری نوجوانوں پر ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی تربیت حاصل کریں اگر دشمن کوئی ایڈونچر کرے تو اسکا بھرپور جواب دیں۔باوقار زندگی ہونی چاہیے دفاع اول تعمیر وترقی دوئم،عزت،مال،حرمت محفوظ ہے تو سب کچھ ہے،مقبوضہ کشمیر میں کوئی ایک گھر ایسا نہیں ہے جہاں شہید نہیں ہے اس لئے اب آپ نے اٹھنا ہے اور تحریک آزادی کشمیر کا حصہ بننا ہے،یاد رکھیے جدوجہد آزادی کشمیر قومی غیرت اور خودی کو زندہ رکھنے کیلئے اور تاریخ میں خود کو زندہ رکھنے کیلیے اس تحریک کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہا جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے جدوجہد آزادی کشمیر کے مجاہدوں کو سلام پیش کرتے ہیں،قوموں کی زندگی میں تغیر وتبدل آتے جاتے رہتے ہیں مورخ کیلیے کچھ چھوڑ کر جائیں،تحریک آزادی کشمیر کیلیے اپنے بدترین سیاسی مخالف کے گھر جانے کیلئے بھی تیار ہوں یہ آغاز سفر نہیں ہے،یہ یاد دہانی ہے کہ خود کو آنے والے وقت کیلیے تیار کریں،ہمارے پاس آج بھی ایسے صاحب الرائے موجود ہیں جو قافلے کو بھٹکنے نہیں دیں گے ہم نے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کا وہ شکوہ دور کرنا ہے کہ ہماری لاشوں پر اپنی حکومتوں کے مینار نہ بنائیں ایسا نہ ہوں یہ مینار ہمیں دبا کر ہلاک نہ کر دیں۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے تمام کالجوں میں این سی سی کی تربیت دوبارہ شروع کی جائے گی تاکہ ہمارے نوجوان ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کیلیے تیار رہیں۔کنوئیر آل پارٹیزحریت کانفرنس آزاد کشمیر محمود احمد ساغر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ اجتماع بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں ہم نے کشمیریوں کے حق آزادی اور حق خود ارادیت کی بات کی ہے۔
وزیر اعظم نے جہاد کونسل سے میٹنگ کی کہ کیسے ہندوستان کا موثر مقابلہ ہو سکتا ہے۔ عسکریت کے بغیر ہم ہندوستان سے جنگ نہیں جیت سکتے، ہماری خوش بختی ہے کہ ہمارے پاس تحریک آزادی کے لئے آزاد خطہ ہے۔ ہمیں آگے دیکھنا ہے تحریک آزادی کیسے مضبوط ہو سکتی ہے ہمیں تقسیم کشمیر کسی صورت قبول نہیں ہے۔ ہر صورت میں کشمیرکی وحدت کو جوڑ کر رکھناہے۔ ہندوستان کے اقدامات نے مجبور کیا ہے کہ ہم متحد ہو جائیں۔ آزاد کشمیر کی تمام جماعتوں کا مشکور ہوں۔جب تک 13اگست 1947والی ریاست کو حق خود ارادیت نہیں مل جاتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ آزاد کشمیرکی عوام تحریک آزادی کی پشت پر ہیں۔ مقبوضة کشمیر کی عوام نے کبھی بھی ہندوستان کو تسلیم نہ کیا ہے نہ کریں گے۔صدر تحریک انصاف آزاد کشمیرو سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عبد القیوم نیازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے جلسہ میں خواتین کی نمائندگی بہت حوصلہ افزاء ہے۔ آجیہاں ہونے والی گفتگو سے متفق ہوں۔ آج ہم فلسطین کے لئے بھی اسی طرح دکھی ہیں جس طرح ہم مقبوضہ کشمیر کے لیئے ہیں ۔ حریت قیادت تحریک آزادی کے ہر اول دستہ کے طور پر قیادت جاری رکھے۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیریوں نے پاکستان بننے سے 24دن قبل قرار داد الحاق پاکستان پاس کی۔ یہ تحریک،تحریک تکمیل پاکستان کی قراد داد تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے سید علی گیلانی کی وفات پر ان کی فیملی کو ان کا چہرہ نہیں دیکھنے دیا جس کی میری کابینہ نے مذمت کی۔ جب دنیا نے کشمیر میں حق خود ارادیت کو تسلیم کیا ہے تو ہندوستان کے 5اگست کے اقدام کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر سے سو اختلاف ہو مگر مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے ایک صفحہ پر ہیں۔ ہم نے تحریک آزادیط کشمیر کو زندہ رکھنا ہے۔صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کا آزاد کشمیر آکر کشمیریوں کی آزادی کی تحریک سے اظہار یکجہتی کرنے پر شکر گزار ہوں۔ کوٹلی آمد پر وزیر اعظم کا شکر گفزار ہوں۔ آزادی کی تحریک کو اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی تحریک ازادی کامیاب ہو گی۔ کشمیر ی اقوام متحدہ کی کشمیر پر قرار دادوں پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ دیگر خطوں میں اپنے قرار دادوں پر عملدرآمد کراتا ہے۔ لیکن اس کا مقبوضہ کشمیر میں دہرامعیار ہے۔چوہدر ی محمد یاسین نے کہا کہ میں نے لندن، برسلز، نیویارک میں کشمیر کانفرنسیں کرانے کی پیشکش کی ہے۔ مسئلہ کشمیرزمین کا تنازعہ نہیں بلکہ حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔ شہید بھٹو نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پیپلز پارٹی قائم کی تھی، چئیرمین بلاول بھٹو جب وزیر خارجہ بنے تو انہوں نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور و مرکز بنایا۔ انشا ء اللہ وہ دن دور نہیں کہ جب کشمیرآزاد ہوکر پاکستان میں شامل ہو جائے گا۔ چوہدری عامر یاسین وزیر سٹیٹ و ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر جلد آزاد ہو گا اور پاکستان کا حصہ بنے گا۔وزیر مال چوہدری اخلاق نے اجتماع سے خطاب کرتے ہؤے کہا کہ کشمیر تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سیکرٹری جنرل شیخ متین نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی تمام سیاسی و آئینی جماعتیں برابر ہیں۔ آج کا اجتماع کوٹلی کے لوگوں کا اعزاز ہے اقوام متحدہ میں وزیر اعطم پاکستان کے جاندار موقف پر شکر گزار ہیں۔ ہم وزیر اعظم آزاد کشمیر کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے تحریک آزادی کے اہم موڑ پر اہم اجتماع منعقد کیا۔ ہم اس مقبوضہ ریاست کا حصہ ہیں جہاں سانس لینا مشکل ہے۔ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاؤنی میں بدل چکا ہے۔آزاد ی بہت بڑ ی نعمت ہے۔ آزادی کی قدر مقبوضہ کشمیر کی عوام سے پوچھیں۔ ہماری جدو جہد حق خود ارادیت کی جدو جہد ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں افراد نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں آزاد کشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے اس بیس کیمپ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر سردار فاروق سکندر خان نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے آزاد کشمیر کی قیادت متحد ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی سر زمین شہداء سے بھری پڑی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام پاکستان سے محبت کے جذبہ لازوال ہے۔ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ تحریک انصاف پاکستان آزاد کشمیرکے رہنماواپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم (اجتماع)کے تسلسل کو جاری رکھ کر دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر میں دیر ہو سکتی ہے ختم نہیں ہو سکتی اس جدو جہد میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ سیاست میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر تحریک آزادی پر سب جماعتیں اکھٹی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کشمیر ایک اکائی ہے ریاست کی وحدت پر یقین رکھتے ہیں۔ سیاست ریاست کے بغیر نہیں چل سکتی۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی ہمارا بنیادی مقصہ ہے۔ یقین دلاتا ہوں ہر فورم پر ہم انشا ء اللہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے رہیں گے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کی عوام مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ ہے۔، آج پاکستان اور آزاد کشمیر کے جھنڈے اکھٹے لہرا رہے ہیں۔
پاکستان نے 75سال سے جاری تحریک کا ساتھ دیا۔ مستحکم پاکستان مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا ضامن ہے۔۔ وزیر صحت عامہ ڈاکٹر نثار انصر ابدالی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختصر نوٹس پر اتنے بڑے اجتماع کا انعقاد کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جناب وزیر اعظم آپ نے جس طرح سے حکومت کو متحرک کیا آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج کا اجتماع دنیا دیکھ رہی ہے آج کے اس اجتماع کی سب سے بڑی تکلیف مودی کو ہے آزادی کشمیر کے لئے ہمارے نوجوانوں نے گولیاں لوڈ کر رکھی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کے تسلط سے آزاد کرا کر دم لیں گے۔ اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کو حل کر نا ہوگا۔ انہون نے اجتماع میں متفقہ قراداد پڑھی۔جب تک 13اگست 1947والی ریاست کو حق خود ارادیت نہیں مل جاتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ آزاد کشمیر کی عوام تحریک آزادی کی پشت پر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام نے کبھی بھی ہندوستان کو تسلیم نہ کیا ہیں نہ کریں گے۔ جاوید اقبال بڈھانوی وزیر بحالیات نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کا کہ آج کوٹلی والوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوٹلی کے لوگوں نے تحریک آزادی میں بہت ساری قربانیاں دی ہیں یہاں پر کشمیریوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کیا جائے۔وزیر ہائر ایجوکیشن ظفر اقبال ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر شہیدوں کی دھرتی ہے۔ یہ خطہ جس میں ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں یہ ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی تحریک کی پشت پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ضرور آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ آج عظیم اجتماع کوٹلی کی سر زمین پر ہو رہا ہے جو ہمارے لئے باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر ہندوستان کے تسلط سے آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا انہوں نے کہا کہ کشمیری قیادت پر زور دیتے ہیں کہ یاسین ملک کی رہائی کے لئے ان کا مقدمہ انٹرنیشنل کورٹ میں لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی۔یاسین ملک، مقبول بٹ کی قربانیوں اور ہم اسلاف،سردار فتح محمد کریلوی،سردار عبدالقیوم اور سردار ابراہیم کی تحریک کے لئے قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ـسردار مولاناسعید نائب صدر جمیعت العلماء اسلام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیر کی اآزادی کے لیے پر عزم ہیں۔ اللہ تحریک اآزادی کو آگے بڑھا کر مقبوضہ آزاد کرانے کی توفیق دے۔ پیر مظہرحسین شاہ نے کہا کہ آج کشمیر اور فلسطین کے مسلمان ہمیں پکار رہے ہیں امت مسلمہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ تما م تعصبات ختم کر کے کشمیریوں کو بتاو ہمارے ساتھ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کو ہم ہندوستان سے لے کر رہیں گے۔ انجینئر خالد محمود نائب امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے تحریک آزادی کشمیر کی سرپرستی اور میزبانی کی ہے اس میدان میں جو بھی کوشش کرے ہم اس کے ساتھ شامل ہونگے۔ آزاد ی کی تحریکیں شروع ہوتیں ہیں تو لوگوں کو اکھٹا کرنا پڑتا ہے۔ فرقہ واریت کی نفی کرنی چاہئے۔ غربت کا خاتمہ کرنا چاہئے۔ آزاد کشمیر میں بجلی کے بلو ں کا عوام کا مسئلہ ہے ان کے مسائل کو حل کریں انکو بھی آزادی کی جدو جہد میں شریک کریں۔مولانا عبد الغفور امیر تحریک لبیکنے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے ہم بھیگ مانگنے والے نہیں ہیں ہم اپنا خون بہا کر آزادی لیں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا حکم ہے۔ مودی عاشقان رسول کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اسے مقبوضہ کشمیر کو چھوڑنا ہو گا۔ مولانا امتیاز صدیقی جمیعت علماء پاکستان کے رہنمانے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے آزاد کشمیر کے عوام کو متحد کیا ہے اور آج ایک عظیم اجتماع منعقد کیا۔ ہندوستان جو مرضی کر لے مقبوضہ کشمیر کو زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھ سکتا اور کشمیر سمیت دیگر خطوں میں رہنے والے سب ہندوستان سے کشمیر کی آزادی پر متفق اور متحد ہیں۔ کشمیر کی آزادی اور وحدت اور تکمیل پاکستان کی جنگ میں تمام دینی طبقہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کی قیادت پر اتفاق رکھتا ہے۔ تکمیل پاکستان کی جنگ میں ہم سب ایک ہیں۔جموں کشمیر لبریشن لیگ کے صدرخواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر آپ نے مشکل حالات میں کردار کے لئے جو اقدامات کئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی، تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ کیا میں اس بات پر آپکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں حق خود ارادیت کے حصول کے لیئے ہماری سمت درست ہونی چاہئے۔ جب تک آزاد کشمیر کی حکومت با اختیارنہیں ہوتی اور تحریک کی قیادت خود یہ حکومت نہیں کرتی ہم ہندوستان کی بر بریت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔تحریک کی سمت کا درست ہونا ضروری ہے۔ جاری تحریک کی قیادت آزاد کشمیر کے پاس ہونے سے ہمیں کامیابی ضرور ملے گی۔ کشمیر پر معاہدوں میں آزاد کشمیر کے عوام فریق نہیں ان معایدوں کی پابند ی ہم پر عائد نہیں ہوتی۔ جموں کشمیر حریت کونسل کو مزید مضبود بنانے کی ضرورت ہے۔ مشیر حکومت نبیلہ ایوب نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5اگست 2019کے غیر قانونی اقدام کی مذمت کرنے کے لئے دفاع حق خود ارادیت اجتماع کا انعقاد حکومت کا تاریخی کارنامہ ہے۔ کشمیر ی اپنا حق خود ارادیت لے کر رہیں گے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سابق مشیر حکومت سردار امجد یوسف نے انجام دئے۔ آخر میں ملکی سلامتی اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے دعا کی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button