کالم

نیا سال

ہر سال کی طرح اِس سال دسمبر کا آخری دن بھی خشک برفیلی ہوائوں یخ برفشاں میں ٹھٹھرتا ہوا گزر گیا کیا یہ دسمبر کے آخری دن سے مختلف تھا یا یہ بھی ویسا ہی گزر گیا دسمبر اپنی اداسیوں رعنائیوں سرگوشیوں کے ساتھ برف آلود یادوں کے ساتھ گزر گیا اور ہم نئے سال میں داخل ہو گئے دسمبر کے آخری دن مجھے کسی کا یہ قطعہ شدت سے یاد آیا آئو دسمبر کو رخصت کریں ۔
کچھ خوشیوں کو سنبھال کر
کچھ آنسوئوں کو ٹال کر
جو لمحے گزر ے چاہتوں میں
جو پل بیتے رفاقتوں میں
کچھ وقت کے ساتھ چلتے چلتے
جو تھک کے رکے راستوں میں
کبھی خوشیوں کی امید ملی
کبھی بچھڑے ہوئوں کی دید ملی
کبھی بے پناہ مسکرادئیے
کبھی ہنستے ہو ئے رو دئیے
ان سارے لمحوں کو مختصر کریں
آئو دسمبر کو رخصت کریں
دسمبر گزر گیا نیا سال آگیا ہر نیا سال آرزوں اور خواہشوں کا ہدف کوئی منزل تک آغاز سال ہی میں پہنچ گیا کوئی لب بام رہ گیا میں فقیر یہ الفاظ سال کے آخری دن لکھ رہا ہوں جب پورا شہر برفشاں بنا ہوا ہے ہر طرف ٹھنڈک کا ہی راج ہے جو ہو نا بھی چاہیے دسمبر کا آخری دن بادلوں سے گھرا گزرا تھوڑا بہت سورج نکلا بھی تو جسم کو حرارت آمیز تپش کا عکس پیش کررہے ہیں بھئی یہ سورج اور بادلوں کا ٹکرائو سالہا سال اِسی طرح لگا رہے گا موسم میں تغیر و تبدل کا سورج طلوع ہو گا اور یہ سلسلہ اِسی طرح چلتا رہے گا آخر وہاں تک پہنچے گا جہاں پر بس رہے نام اللہ کا !۔ جس وقت آپ یہ کالم پڑھ رہے ہو نگے نیا سال طلوع ہو چکا ہو گا جنوری کا آغاز ہو جائے گا نئے سال کا آغاز دھرتی کے کو نے کونے پر اپنے رسم و رواج کے مطابق منایا جائے گا پچھلے سال کو مختلف طریقوں سے رخصت بھی کیا جائے گا گردش ایام کا یہ سلسلہ صدیوں سے جاری و ساری ہے دور رہے گا دسمبر کی آخری رات کسی کے لیے شب برات تھی تو کسی کے لیے شام غریباں کو ئی اپنی آخری شام کو اپنی سیاسی کاروباری معاشی معاشرتی کامیابیوں پر خوشی سے سرشار تھا تو کوئی نوحہ گری میںلگاتھا امیدوں آرزئوں کے تشنہ رہنے کی منصوبوں کے ناکام رہنے کی تمنائوں کے اسیر حلقہ ایام رہنے کی خواہشوں کا قیدی حضرت انسان یہ دیکھتا ہے پچھلا سال کتنا سیاسی معاشی عروج دے گیا کتنے پلازے کارخانے قائم کئے کتنے بینک بیلنس کے پہاڑ کھڑے کئے پیداوار کی سلطنت کتنی وسیع ہوئی کتنے بینکوں سے قرض کو نچوڑا پچھلے سال کو سامنے رکھ کر نئے سال میں نئی منصوبہ بندیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ پچھلے سال جو معاشی سیاسی کامیابیاں حاصل نہیں ہو ئیں ان کے نئے سال میں کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے جوڑ توڑ لوٹ کھسوٹ مار دھاڑ اتار چڑھائو کے کونسے نئے طریقے وضع کئے جائیں کہ پچھلے سال نامکمل رہنے والی خواہشات آسانی سے تکمیل کا لباس پہن لیں یہ وہ وظیفہ ہے جس کو اخلاقی بہتری انسان دوستی نہیں معاشرتی اصلاح نہیں بلکہ اپنی معاشی سیاسی سلطنت کو کس طرح وسیع مضبوط کیا جائے کا خیال ہو نا ہے یا پھر اپنی تجوریوں کے منہ کھول کر شراب کباب عیاشی کے محفلوں کا رخ کرنا یہ سارے عیاش لوگ اپنی اوقات کے مطابق عیاشی کے ریکارڈ توڑتے نظر آتے ہیں پہلا طبقہ جو وطن عزیز میں ہی دوستوں کے ساتھ مل کر شراب ناچ گانے ہلڑ بازی فائرنگ کا اہتمام کر تا ہے اِس سے امیر طبقہ قریبی ملکوں کا رخ کرتا ہے جہازوں کے جہاز اِن عیاشی کے ملکوں کی طرف رخ کرتے ہیں یہ وہاں جا کر خوب اپنی دولت لٹاتے ہیں شراب شباب کباب کی محفلوں میں شامل ہو کر عیاشی کر نا اولین فرض سمجھتے ہیں اِن سے پھر امیر طبقہ دنیا کے ترقی یافتہ امیر یورپی ملکوں کا رخ کر تا ہے ساتھ میں اپنے حلقے میں بتاتے بھی ہیں کہ اِس سال ہم فلاں ملک میںجا کر نیوا یئر منائیں گے اِس طرح ایک طرف تو یہ ذاتی تسکین کرتے ہیں ساتھ میں اپنے حلقے میں اپنی دولت کی دھاک بھی بٹھاتے ہیں کہ ہم اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں ہم آپ لوگوں سے بہت مختلف ہیں جو نئے سال کی تقریبات کے لیے ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کر تے ہیں ان فنکشنوں میںشامل ہو کر تصوریریں لگا کر اپنی دولت کی دھاک بٹھاتے ہیں اور پھر آنے والے نئے سال میں سارا سال نمائش کرتے ہیں اگر آپ دنیا بھر میں نظر دوڑائیں تو زیادہ تر ایسے ہی خواہشوں کے اسیر ہمیں نظر آتے ہیں لیکن شراب کباب شباب کے بھوکے اِس طبقے کے علاوہ ایک انسان دوست طبقہ بھی نظر آتا ہے جس کے پیمانے مختلف قسم کے ہوتے ہیں جہاں رنگ و بو کے مشاہدے مختلف رنج و راحت کے تجربے مختلف کامیابی ناکامی کے اندازے مختلف یہ طبقہ زہد حلقہ صوفیا بزم تصوف کے باسی الہی رنگ میں رنگے لوگ جو نفس مطمئنہ کے بعد خواہشوں کو مکمل ٹالنے کا ہنر جانتے ہیں یہ حلقہ عشاق کے مسافر جو زہد میں آگے رہنے کی بجائے جہد میں آگے رہنے کا ارمان رکھتے ہیں اِن کا پچھلہ سال نفع و نقصان کا پیمانہ مختلف ہے یہ لوگ دن کے اجالے کی بجائے دل کے اجالے کے قائل ہو تے ہیں یہ شباب کبا ب کی محفلوں میںنہیں جھومتے بلکہ لا الہ الا اللہ کی آواز پر سر دھنتے ہیں ہر نئے سال پر ہیپی نیو ائیر کے گیت گائے جاتے ہیں روشنیوں کے دریا بہائے جاتے ہیں تقریب اشتہار چھپائے جاتے ہیں محفلیں سجائی جاتی ہیں خوشی و مسرت استقبال کے نعرے مارے جاتے ہیں لیکن یہ عشاق لوگ دیکھتے ہیں پچھلے سال انصاف سستا ہو گیا دو وقت کی روٹی سب کو نصیب ہو شایانہ کروفر کا خاتمہ ہوا طبقاتی تضاد ختم ہوا عوام حکمرانوں میں فاصلہ کم ہوا بے گھروں کو چھت نصیب ہوئی بے آسروں کو پناہ ملی بیماروں کو ہسپتالوں میں شفا ملی امریکہ یورپ کی بالا دستی ختم ہوئی خدا کے حضور جھکنے کا جذبہ پیدا ہوا نفرتوں کی جگہ محبتوں کے چراغ روشن ہوئے دوریاں قربتوں میں ڈھل گئیں اگر یہ سب کچھ نہ ہوا تو اگلے سال بھی وہی ہفتہ اتوار صبح شام نام کے سوا کوئی فرق نہیں سال پر سال گزرتے جاتے ہیں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی یہی درد دل لوگ سال کے آخر پر کہتے ہیں
اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی گزر گئے
ایک اور سال بنا کچھ دئیے یونہی گزر گیا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button