کالم

نمبرداری نظام ۔۔فوائد۔۔نقصانات

قارئین محترم!جب انگریز نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے سے بر صغیر میں اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑھ دئیے تو اس کو اس ملک کے نظام کو چلانے کے لئے اسی ملک کے باسیوں کی ضرورت تھی ،جو اپنے دور کے اعتبار سے معتبر بھی ہوتے تھے اور لوگ ان سے اپنے چھوٹے موٹے مسائل حل کرواتے تھے۔اپنے کنبے قبیلے پر گرفت رکھنے والے اشخاص یا معزز طرزکے لوگ عموما نمبردار بنائے جاتے تھے۔اگر ماضی کے جھروکوں سے ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ انگریز چونکہ برصغیر میں نو وارد تھا ،وہ یہاں کے مسائل سے مکمل واقف بھی نہ تھا،اس لئے اسے یہاں کے مقامی شہرت یافتہ لوگوں کی ضرورت تھی،جو اس کے مسائل حل کرنے میں اس کے مدد گار ہوتے تھے۔یہ بات بھی کافی حد تک درست ہے کہ مہاراجا ئوں اور انگریز کی چاپلوسی کرنے والے بھی نمبردار بنا دئیے گئے،لیکن اکثروہ لوگ نمبردار ہوتے تھے جو ذہین،فطین،معاملہ فہم اور مسائل کو بغیر کورٹ کچہری کے چکر لگوانے سے ان کے مسائل میرٹ پر ان کی دہلیز پر حل کر دیتے تھے۔قارئین! وہ تو انگریز کی ضرورت تھی کہ اس نے ڈکٹیٹر شپ کے تحت نمبردار چنے اور اپنے مسائل حل کرواتا رہا۔لیکن جب انگریز یہاں سے چلا گیا تو انگریز نما اشرافیہ کوبھی ہر گائوں اور محلے،گلی اور گھر کی خبر لینا ہوتی تھی تو یہاں کی سیاسی پارٹیوں نے نمبردار کا نام بدل کر لوکل کونسلر اور ڈسٹرکٹ کونسلر رکھ دئیے۔بس نمبردار اور کونسلروں میں فرق اتنا ہے کہ نمبردار اپنی ذہانت،معاملہ فہمی اور تدبر کی وجہ سے ایک نو منتخب اہلکار ہوتا تھا ،بعینہہ اسی طرح کونسلرز حضرات کام تو وہی کر رہے ہیں جو نمبردار کرتے تھے لیکن ان کو انتخابی مرحلے سے گزر کر کامیاب ہونے کے بعد کونسلر شپ ملتی ہے۔پرانے دور میں بڑے بڑے مسائل ایک جرگہ سسٹم کے تحت نمبردار حل کروا دیتے تھے۔اس وقت ان کے پاس حکومت کے تفویض شدہ اختیارات بھی تھے۔قتل اور بد کاری تک کے مقدمے صرف ایک نمبردار صاحب بغیر کسی وکیل،جج یا عدالت کے چند گھنٹوں میں حل کر لیتے تھے۔ مجال ہے کہ جو فیصلہ قبیلے کی موجودگی میں نمبردار صاحب کر دیں تو کوئی اس سے ادھر ادھر ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔یک اور بات کہ حکومت زرعی زمینوں پر جو Taxلیتی تھی اسے نمبردار اپنی اپنی حدود سے جمع کر کہ داخل خزانہ ء سرکار کرتے تھے۔ہنگامی حالات میں نمبردار صاحب صف اول میں ہوتے تھے اورظلم و جبر کبھی گوارہ نہ کرتے۔ہمیشہ حق دار کو حق دلانا نمبردار کی زمہ داری تھی۔سارے گائوں کے ایک ایک فرد کے بارے میں نمبردار صاحب واقف ہوتے تھے،اور یوں انہیں چھوٹے موٹے فیصلے کرنا تو بالکل ہی آساں لگتے تھے۔ لیکن گائوں کا سب سے مدبر اور فطین شخص نمبردار چنا جاتا تھا جو on the spotفیصلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ ایسے لوگ بہت پر اعتماد،بہادر،معاملہ فہم اور حکمت سے بھرپور پتے اپنے پاس رکھتے تھے اور لوگوں کو مسائل ان کی دہلیز پر حل کر کہ دیتے تھے۔اگر کوئی بندہ جرم کا رتکاب کر بیٹھتا اور شواہد بھی سامنے آجاتے تو اسے نمبردار صاحب اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے یا جرمانہ دینے پرفیصلہ کرتے یا اسے با قاعدہ نمبردار صاحب کی رپورٹ کے ساتھ حوالہ ء پولیس کیا جاتا۔اس سارے کام میں چونکہ غریب عوام کو اکثر انصاف ان کی چو کھٹ پر مل جاتا تھا اس لئے یہ نظام عام آدمی کے لئے نہایت مفید و کار آمد تھا۔لیکن بات وہیں رکتی ہے کہ ایک طرف اللہ شوریٰ یعنی مشاورت سے کسی بھی کنبے قبیلے یا ملک کا حکمران بنانے کا حکم دیتا ہے ،جب کہ نمبرداری نظام نسل در نسل ملوکیت کی طرح چلتی رہتی ہے۔ یہ ایک انتہائی گھنائونا پس منظر ہے۔جبکہ دوسری جانب لوگوں کے مکانوں کی تعمیر سے لے کر ان کے گھاس کی کٹائی اور فصلوں کی حفاظت اور پھر انہی فصلوں سے نقدی رقم یا پیدا شدہ فصل کا کچھ حصہ نمبردار کے حوالے کیا جاتا تھا جو کہ سرکار کے ساتھ تعلق میں رہتا اور انہیں وہ سب چیزیں جو فصلوں کے taxیا مالیہ کی صورت میں نمبردار صاحب وصول کر کہ حکومت وقت تک پہنچاتے۔ بالعموم نمبردار صاحب کی یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ اپنے علاقے کے ازدواجی معاملات جو بھی ہوتے تھے ان کی مرضی کے تحت ہوتے تھے۔موت،مرگ یا کسی ناگہانی صورتحال میں نمبردار صاحب پیش پیش ہوتے تھے۔ اپنے علاقے کے مریضوں کی حتیٰ المقدور علاج کی کوشش کرتے تھے۔ چاہے معاملہ پانی کا ہو یا دو بھائیوں میں وراثتی تقسیم کا نمبردار صاحب ان تمام مسائل کو یوں نمٹاتے جیسے کہ یہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔پہلے پہلے ہر گائوں میں دو یا تین نمبردار ہوتے تھے ۔لیکن کوئی غریب کورٹ کچہری اور پٹواریوں کے پیچھے باگھتا نہیں تھا۔ مگر آج ظلم یہ ہے کہ ہر گائوں میں خود ساختہ ہزاروں نمبردار ہیں لیکن پھر بھی غریب عوام در در کے دھکے کھا رہی ہے۔ میں نے ابتدائیہ میں لکھا تھا کہ جو کام نچلی سطح پر حکومت کو کرنے ہوتے ہیں وہ پہلے نمبردار صاحبان کیا کرتے تھے ،لیکن آج کل اصولی طور پر عوام کے بنیادی مسائل ایوان اقتدار تک پہنچانا کونسلرز کا کام ہے۔ لیکن اس افرا تفری کے دور میں نہ وہ محبتیں باقی رہیں،نہ ہمدردیاں اور نہ ہی خلوص۔ہر کوئی اپنی اپنی زندگی enjoyکر رہا ہے۔ حالانکہ منتخب شدہ عوامی نمائندے اس بات کے ذمہ دار ہیں جن جن لوکل کونسلز اور یونین کونسلز سے وہ عوام کی طاقت سے ممبر بنے ہیں وہ ان کے درمیان بیٹھیں اور ان کے چھوٹے موٹے مسائل کا حل نکالیں۔قارئین! اب میں آخر میں نمبردار کے اختیارات بتاتا چلوں کہ اگر موجودہ دور سے بتقابل کیا جائے تو پانچویں پاس نمبردار درجہ اول مجسٹریٹ کے اختیار رکھتا تھا۔ اور میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اگر نمبردار صاحب کافیصلہ کسی فریق نے قبول کرنے سے انکار کیا تو اسے کڑی سزا دی جا سکتی تھی۔اب بھی اگر حکومت وقت چاہے تو بلدیاتی نمائندوں کی راہنمائی کے لئے نمبر داری نظام کو دوبارہ نافذ العمل کیا جا سکتا ہے۔ جب ایک ایک وزیر،مشیراور بیورو کریٹ کروڑوں روپے ہر ماہ ڈکار جاتے ہیں تو تخیل یہ کہتا ہے کہ نمبرداری نظام کو آزمایا تو جائے،اگر اس کے نتائج عوام کی بہتری کے لئے ہیں تو اسے با قاعدہ ایک ادارے کی حیثیت دی جائے اور خدا نخوستہ یہ نظام ملکی مفاد کے خلاف ہے تو نمبردار کے پاس کتنے اختیارات ہوں گے کہ وہ ملک و قوم کی دولت لوٹ کر بدنامی کا باعث بنے گا۔بغیر تنخواہ اور بغیر کسی فنڈ کے نمبرداری نظام بحال کر کہ اس کے اثرات دیکھ لینا کوئی ممانعت کی بات نہیں۔اگر یہ نظام عوام،ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ثابت ہوتا تو نمبردار کون سی بڑی بلا ہے اس ملک کے طاقتور ترین وزرائے اعظم اور صدور کی نمبر پلیٹس ہی نہیں مل رہیں۔نمبردار صاحب اگر معاشرے کے لئے سود مند ثابت نہ ہوئے تو ان کی نمبر پلیٹیں بھی غائب کر دی جائیں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button