کالم

سمجھوتا ایکسپریس

ہم زندگی میں سمجھوتے کرنے کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ ہماری زندگی سمجھوتا ایکسپریس بن کر رہ گئی ہے۔ ایسی سمجھوتا ایکسپریس جو لاہور سے دلی تک ہر دوسرے اسٹیشن پر رکتی ہے۔ کیوں رکتی ہے؟ بسا اوقات یہ تک معلوم نہیں ہوپاتا۔سمجھوتے کو معاشرے کی ضرورت، مجبوری یا اصول سمجھا جاتا ہے، لیکن اس بات کا تعلق معاشرے سے زیادہ دنیا اور دنیا پرستی سے ہے۔ دین یا مذہب، انسان کو اس کی روح لوٹاتا ہے اور دنیا، انسان سے انسان کی روح طلب کرتی ہے۔ آپ اپنی روح دنیا کے حوالے کردیں، وہ آپ کو سب کچھ دے گی۔ دولت، عزت، شہرت اور خود ساختہ عظمت بھی۔ اکثر لوگ اس سودے بازی کے لیے جان کی بازی لگادیتے ہیں اور تمام عمر اس سودے بازی کے انتظار میں صرف کرسکتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ وہ خود کو صابر بھی سمجھتے ہیں۔ یہ بے پناہ بے صبری کا صبر بھی خوب ہے۔دنیا اور دنیا پرستی کو آج کل خوشحال یا مادی زندگی تک محدود تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن دنیا کا تعلق انسان کی ایک ایک رگ اور ریشے سے ہے۔ اور دنیا اسی لیے خود کو دین کا ہم پلہ سمجھتی ہے۔ چناں چہ وہ انسان کی روح سے (جو امر ِ ربی ہے) کم تر کسی چیز پر آمادہ نہیں ہوتی۔ کوئی سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کے حضور اپنی انا کی قربانی پیش کرچکا ہے، لیکن یہ تو محض ابتدا ہوتی ہے، دنیا کا اصل ہدف ہمیشہ روح ہوتی ہے، روح کو خریدے بغیر وہ ٹلتی نہیں۔ یہ ایک ازلی و ابدی مسئلہ ہے، مگر اکثر لوگ یہ بات نہیں سمجھتے، یہ بات کہ دنیا روح سے کم پر آمادہ اور مطمئن نہیں ہوتی، اور یہ بات بھی کہ یہ ایک ازلی و ابدی مسئلہ ہے۔سمجھوتوں کی ابتدا بچپن ہی سے ہوجاتی ہے۔ والدین یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ ان کے بچے اپنے اصول نمو کے مطابق پروان چڑھیں۔ بچے کمزور ہوتے ہیں اور ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ بڑوں کی ہدایت، طاقت اور حکم کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ اس عمر میں بچوں کا معاشرہ ان کا خاندان ہی ہوتا ہے اور یہ معاشرہ انہیں سکھاتا ہے کہ سمجھوتا زندگی کا بنیادی اصول ہے۔ یہ نکتہ جب بھی زیر بحث آتا ہے، لوگ تربیت اور ادب و آداب کے مسائل اٹھادیتے ہیں، لیکن تربیت اور ادب و آداب کے معاملات اور چیز ہیں۔ مذہب تربیت اور ادب و آداب کے حوالے سے جو احکامات دیتا ہے وہ اور چیز ہیں، اور بچوں کو سمجھوتوں پر مجبور کرنے کی نفسیات اور طرز عمل کوئی اور چیز ہے، اس کا تعلق مذہب سے نہیں، ہماری ذاتی پسند و ناپسند کے دائرے سے ہے۔نوجوانی میں انسان میں قوت حیات کی فراوانی ہوتی ہے۔ قوت حیات کی فراوانی تو خیر بچپن میں زیادہ ہوتی ہے، لیکن نوجوانی میں اس کا احساس اور کچھ نہ کچھ شعور پیدا ہوجاتا ہے۔ چناں چہ انسان سمجھوتوں کو خاطر میں نہیں لاتا، لیکن اکثر نوجوان جلد ہی اتنے ہوش مند ہوجاتے ہیں کہ انہیں سمجھوتے کی راہ کی سہولت اور برعکس راہ کی مشکلات اور تکالیف کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ اندازہ ان میں ایک خوف پیدا کردیتا ہے، اور وہ اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ شرافت کے دائرے میں آجائیں اور مصالحت کی راہ اختیار کریں۔مصلحت، مصالحت اور مجبوری زیر بحث موضوع کے حوالے سے بہت اہم الفاظ ہیں۔ مصلحت بہت اچھی چیز ہے، بشرطیکہ اس کا تعلق زندگی کے ایک بڑے دائرے سے ہو اور مصلحت اختیار کرنے والے کے پاس دانش کی قلت نہ ہو۔ مصالحت میں کوئی برائی نہیں، بشرطیکہ اس کا تعلق کسی اخلاقی کمزوری سے نہ ہو۔ مجبوری زندگی کا ناگزیر حصہ ہے، اور اس میں کوئی قباحت نہیں، بشرطیکہ مجبوری کو مستقل اصول اور رویہ نہ بنالیا جائے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اکثر لوگ مصلحت، مصالحت اور مجبوری اور ان جیسے دیگر الفاظ و تصورات کا استحصال کرتے ہیں۔ نٹشے کی لادینیت تسلیم، مگر اس کا فقرہ Live Dangerously سراسر مذہبی اسپرٹ میں ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ مذہب آخر اس کے سوا کیا کہتا ہے کہ اپنے ایمان اور ایقان کے سہارے زندہ رہو۔ اپنے ایمان اور ایقان کے سہارے زندہ رہنے کا مفہوم، خطرات میں زندہ رہنے کے سوا کیا ہے؟ ایمان اور ایقان کے سہارے زندہ رہنا مذاق نہیں۔ کوئی اور تو کیا؟ خونی رشتے تک دشمن ہوجاتے ہیں۔ ایمان، ایقان اور اصول پر اصرار کرنے والے آئینے کی طرح ہوتے ہیں اور آئینے کا سامنا کرنا ایک مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ اپنی خواہشات اور خوش فہمیوں کا آئینہ بناتے ہیں اور اسی میں اپنا عکس دیکھتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔سمجھوتا انسان کو مشکلات اور خطرات میں ایک حصار کی طرح محسوس ہوتا ہے، اس لیے انسان اس کی جانب بے تابی اور بسا اوقات ایک قسم کی شہوت کے ساتھ لپکتا ہے۔ ایک سمجھوتا ایک حصار، دوسرا سمجھوتا دوسرا حصار، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انسان یہاں سے وہاں تک اپنے گرد طرح طرح کے حصار قائم کرلیتا ہے۔ دولت کا حصار، طاقت کا حصار، شہرت کا حصار، سماجی روابط کا حصار۔ ان حصاروں میں وہ خود کو محفوظ مامون سمجھتا ہے جن سے انسان کو کبھی رہائی نہیں ملتی، کیونکہ انسان انہیں زنداں نہیں، حصار سمجھتا ہے۔ انسان اپنے لیے سب سے سنگین دام، سب سے مضبوط جال خود ہی بنتا ہے۔سمجھوتے کی زندگی بظاہر پرسکون اور مامون ہوتی ہے، لیکن انسان اپنی فطرت کو کچل کر خوش نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنے آپ سے جتنا انحراف کرتا ہے، اس کا خوف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور سمجھوتے کی نفسیات تو یوں بھی خوف کی نفسیات ہوتی ہے۔ انسان جہاں اپنے آپ کو کمزور پڑتا دیکھتا ہے، سمجھوتے کی راہ اختیار کرتا ہے اور اس کی نفسیات میں عدم توازن بڑھتا چلا جاتا ہے۔یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ صرف سمجھوتے کرنے والے ہی سمجھوتا ایکسپریس کا منظر پیش نہیں کرتے، کچھ سمجھوتا نہ کرنے والوں کا معاملہ بھی یہی ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ اعلان کرتے ہیں کہ ہم اصولوں پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔ ان میں سے بعض لوگ محض اعلان ہی نہیں کرتے، جو کہتے ہیں کرکے بھی دکھاتے ہیں۔ ایسے لوگ یقینا قابل قدر ہوتے ہیں۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کی اکثریت سمجھوتا نہ کرنے کی روش، انا پرستی، خود پرستی اور کسی نفسیاتی یا شخصی کمزوری کے تحت اختیار کرتی ہے اور بنیادی طور پر یہ ایک تلافی کی نفسیات ہے۔ اور اس نفسیات کے حامل لوگ دنیا سے نہ سہی اپنی انا اور اپنی کمزوریوں سے سمجھوتا کیے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سمجھوتا تو سمجھوتا ہے خواہ وہ دنیا سے کیا جائے یا اپنی انا سے کیا جائے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سمجھوتا نہ کرنے کی معنویت صرف اس صورت میں بنتی ہے جب اقدار اور اصولوں کے تحفظ اور ان کے فروغ کے لیے سمجھوتا نہ کیا جائے۔ لیکن بات یہ ہے کہ یہ بلند مرتبہ کسی کسی کو ملتا ہے۔سمجھوتا صرف انفرادی زندگی میں نہیں ہوتا یہ قومی زندگی میں بھی ہوتا ہے۔ لیکن انفرادی اور اجتماعی زندگی میں سمجھوتے کا نتیجہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ انفرادی زندگی میں بھی سمجھوتا فرد کے جوہر کو کچل اور مسخ کردیتا ہے اور اجتماعی زندگی کے دائرے میں بھی سمجھوتا اجتماعیت یا قومی جوہر کو کچل دیتا ہے۔ قومی زندگی میں سمجھوتے کی سب سے بڑی مثال مسلم دنیا کے ممالک ہیں۔ سعودی عرب، مصر، پاکستان، الجزائر، ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا، تجزیہ کیا جائے تو ان ملکوں نے مغرب کی بالادستی قبول کرکے اپنے جوہر اور اپنی روح کو مسخ کرلیا ہے۔ یہ ملک کہنے کو آزاد ہیں مگر دراصل یہ ملک مغرب کے غلام ہیں۔ اس کے برعکس افغانوں نے 20 ویں اور اکیسویں صدی میں Live Dangerously کی مثال قائم کی ہے۔ 20 ویں صدی میں افغانوں نے سوویت یونین سے سمجھوتا نہ کرکے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اسے شکست سے دوچار کیا اور اکیسویں صدی میں افغانوں نے امریکا اور اس کے 48 اتحادیوں کے ساتھ سمجھوتے سے انکار کرکے ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور تمام طاقتوں کو شکست سے دوچار کیا۔ یہ مسلم دنیا کی خوش بختی ہے کہ حماس نے بھی اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے ساتھ سمجھوتے سے انکار کرکے اپنے ایمان و ایقان کے سہارے زندہ رہنے کا اعلان کیا ہے۔ حماس کے اس طرزِ عمل نے صرف اسرائیل کو نہیں امریکا اور یورپ کی انسان پرستی کو بھی ننگا کردیا ہے۔ اب مغرب کے کروڑوں لوگ جان گئے ہیں کہ انسانی حقوق کے سلسلے میں مغرب کے نعرے محض نعرے ہیں ان کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button