
بھارت کے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر عائد کر دیا تھا۔ایک انٹرویو میں بھارت کے سابق وزیر داخلہ پی کے چدمبرم نے کہا کہ آخر بھارتی حکومت یہ کیوں سمجھتی ہے کہ پہلگام واقعے میں ملوث دہشت گرد پاکستان سے آئے، کیا مودی سرکار نے ان دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے کی تصدیق کی، کیا ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پہلگام واقعام میں ملوث دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔سابق بھارتی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ حملہ کرنے والے بھارتی بھی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے بھارت میں ہی دہشت گردی کی تربیت حاصل کی ہو۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کیوں نہیں بتا رہی کہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے اب تک اس معاملے میں کیا تحقیقات کی ہیں، مودی حکومت میں اتنی جرات نہیں کہ پہلگام حملے کی شفاف تحقیقات کرے۔سابق بھارتی وزیر داخلہ چدمبرم کا کہنا تھا مودی حکومت جنگ کے دوران ہونے والےنقصانات کو بھی چھپا رہی ہے، جنگوں میں نقصانات دونوں طر ف ہوتے ہیں، بھارت کو بھی نقصانات اٹھانا پڑے ہوں گے۔پی کے چدمبرم کا کہنا تھا ہم یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ جنگ بندی میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں، اگر ڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی میں کردار ہے تو ہم اس کا اعتراف کیوں نہیں کرتے، بھارت کے ہمسایہ سمیت کسی بھی ملک نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان نے جارحیت کی، شنگھائی کارپوریشن، برکس اور سارک نے بھی پاکستان کا نام نہیں لیا۔خیال رہے کہ حکومت پاکستان نے پہلگام واقعے کی ناصرف مذمت کی تھی بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ہر ممکن تعاون بھی پیشکش بھی کی تھی لیکن اس کے باوجود بھارت اب تک پہلگام واقعے کے حوالے سے پاکستان کے خلاف الزامات سے آگے نہیں جا سکا اور نا ہی اب تک معاملے کی تحقیقات مکمل ہو سکیں۔